Pakistan's Urdu Forum (IT Knowledge)

For IT education (education for all)


    مزاحیہ شاعری

    Share
    avatar
    kamrankhan143
    Super Moderator

    Posts : 271
    Join date : 2010-03-17
    Age : 32
    Location : Abu Dhabi

    مزاحیہ شاعری

    Post by kamrankhan143 on Sun Apr 04, 2010 8:27 am

    غزل کا عنوان ہے بتی چلی گئی
    پانچ دن ملے زندگی کے مگر
    گزرے ہی تھے 4 کے بتی چلی گئی
    کل واپڈا کے دفتر میٹنگ تھی کچھ خاص
    ہونے لگی تکرار کے بتی چلی گئی
    موت کی طرح اس کا بھی وقت نہ رہا
    عید کی شاپنگ اور بھرا بازار کے بتی چلی گئی
    سکول ٹائم اور واپڈا کی ذہانت
    ناشتہ ہونے لگا تیارکے بتی چلی گئی
    شادی والے دن بڑے خوش تھے ہم
    گلے پڑنے لگے تھے ہار کے بتی چلی گئی
    زرداری کے بعد تعریف کے قابل واپڈا والے
    کوئی بھی ہو تہوار کے بتی چلی گئی
    بتی رہی تو پھر ملیں جناب
    محاورہ بدل گیا سرکار کیونکہ بتی چلی گئی
    avatar
    kamrankhan143
    Super Moderator

    Posts : 271
    Join date : 2010-03-17
    Age : 32
    Location : Abu Dhabi

    Re: مزاحیہ شاعری

    Post by kamrankhan143 on Sun Apr 04, 2010 8:27 am

    اوہ وقت بڑا اچھا سی
    جدوں میں نکا بچہ سی
    گولیاں، ٹوفیاں کھاندا سی
    نیکر کچھے پاندا سی
    نہ لوکاں دی کوئی ٹینشن سی
    نہ ابے دی لگی پینشن سی
    نہ کڑیاں دا کوئی رولا سی
    عشق دا کم وی ذرا ہولا سی
    آلو چھولے کھاندا سی
    جمپاں شمپاں لاندا سی
    اوہ وقت بڑا اچھا سی
    جدوں میں نکا بچہ سی
    avatar
    kamrankhan143
    Super Moderator

    Posts : 271
    Join date : 2010-03-17
    Age : 32
    Location : Abu Dhabi

    Re: مزاحیہ شاعری

    Post by kamrankhan143 on Sun Apr 04, 2010 8:28 am

    avatar
    kamrankhan143
    Super Moderator

    Posts : 271
    Join date : 2010-03-17
    Age : 32
    Location : Abu Dhabi

    Re: مزاحیہ شاعری

    Post by kamrankhan143 on Sun Apr 04, 2010 8:28 am

    دیار غیر میں شوھر کو بیوی کا خط

    ملا جب سے خط پیارےکہ چھٹی آ رھے ہو تم
    میرے خوابوں پہ صبح و شام یکسر چھا رھے ہو تم

    جب آؤ گے وہ دن میرے لئے دن عید کا ہو گا
    عجب منظر میرے دلبر تیری دید کا ہو گا

    بہت وزنی سے دو اک بیگ پیارے ہاتھ میں ہوں گے
    اٹیچی کیس دس بارہ یقینا ساتھ میں ہوں گے

    کلر ٹی وی تو ڈبے ہی سے میں پہچان جاؤں گی
    فرج بھی ساتھ لاۓ تو میں تم کو مان جاؤں گی

    میں ائرپورٹ پر آؤں گی اپنی جان کو لینے
    سوزوکی وین بھی لاؤں گی سب سامان کو لینے

    تمھارا ٹھاٹ دیکھوں گی تو یہ دل مسکراۓ گا
    کھلیں گے بکس جب گھر میں تو یہ دل گنگناۓ گا

    بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ھے
    جاپانی ساڑھیاں میرے لیۓ کیا خوب لایا ہے

    مجھے تو کچھ نہیں لینا مگر یہ دنیا بھی رکھنی ہے
    پوزیشن کچھ تو اپنی اس موئی دنیا میں رکھنی ہے

    مجھے کچھ چاھیۓ کپڑا یہی کرتے بنانے کو
    کوئ چالیس گز کے ٹی دینے اور دلانے کو

    دو درجن جانگیے، رومال اور بنیان کافی ہیں
    دوپٹوں کے فقط اس مرتبہ دو تھان کافی ہیں

    وہاں سے لکس صابن بھی کوئی دس بیس لے آنا
    گرم سوٹوں کے کپڑے کے یہی چھ پیس لے آنا

    میرے بھیا کی راڈو واچ اب کے بھول نہ جانا
    میری تو خیر ہے ، باجی کی ساڑھی ساتھ ہی لانا

    یہ کیا لکھا ھے کہ اب کے مستقلا آ رھے ہو تم
    امیدیں پیارے مستقبل کی کیوں ٹھکرا رھے ہو تم

    ابھی تو ہم کو رہنے کے لیۓ بنگلہ بھی لینا ھے
    ایک ہونڈا کار اور جانے ابھی کیا کیا لینا ھے

    میرے دلبر میری باتوں پہ تھوڑا غور کر لینا
    بس ایگریمنٹ تم دو سال کا اک اور کر لینا

    بسایا ھے سدا میں نے تمھیں اپنے خیالوں میں
    دعا یہ ھے، رہو تم ہر کھیلتے ہر دم "ریالوں" میں

    خدا حافظ میرے جانی جواب اب جلد لکھ دینا
    کب آئیں گی میری چیزیں جناب اب جلد لکھ دینا
    avatar
    kamrankhan143
    Super Moderator

    Posts : 271
    Join date : 2010-03-17
    Age : 32
    Location : Abu Dhabi

    Re: مزاحیہ شاعری

    Post by kamrankhan143 on Sun Apr 04, 2010 8:29 am

    سمندر پار سے مظلوم شوہر کا جوابی خط


    تمہارا نامہ الفت مجھے مل گیا پیاری
    پڑھی جب لسٹ چیزوں کی کلیجہ ہل گیا پیار

    وہی تکرار تحفوں کی وہی فرمائشیں سب کی
    لکھی ہیں خط میں گویا صرف تم نے خواہشیں سب کی

    سبھی کچھ لکھ دیا تم نے کسی نے جو لکھایا ہے
    فلاں نے یہ منگایا ہے فلاں نے وہ منگایا ہے

    کبھی سوچا بھی ہے تم نے روپے کیسے کماتا ہوں
    کڑکتی دھوپ سہتا ہوں پسینے میں نہاتا ہوں

    تمہیں شاید نہیں‌معلوم رہتا ہوں یہاں‌کیسے
    میں میس سے آوٹ رہ رہ کے کماتا ہوں یہاں پیسے

    مگر تم ہو کہ رشتے داریاں ملحوظ رکھتی ہو
    لٹا کر اپنے ہی گھر کو انہیں محفوظ رکھتی ہو

    جو پیسہ پاس ہو رشتے بھی سئے جاگ جاتے ہیں
    برا جب وقت آتا ہے تو پھر سب بھاگ جاتے ہیں

    میں پہنچوں گا تو پھر تم دیکھنا اصلی لٹیروں کو
    گلے ملتے ہیں کیسے دیکھنا فصلی بٹیروں کو

    پہنچ جائیں گے یہ سب لوگ جھوٹی چاہ میں ایسے
    بھنڈارا بٹنے والا ہو کسی درگاہ میں جیسے

    کوئ کیسے کہے یہ بات ان موقع پرستوں سے
    روپے لگتے نہیں اس ملک میں قبلہ درختوں سے

    تمہاری خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    مگر کہنا خدا لگتی کبھی ناکام ہم نکلے؟

    کہا تم نے مجھے جو بھی وہی کچھ کر دیا میں نے
    تمہارے اگلے پچھلوں کو بھی اب تو بھر دیا میں نے

    مجھے سعودیہ آئے اب نو دسواں سال ہے پیاری
    وطن سے دور ہوں کب سے شکستہ حال ہے پیاری

    مگر تم ہو کہ بس پھر بھی یہی تکرار کرتی ہو
    کرو اک اور ایگریمنٹ یہ اصرار کرتی ہو

    ہوس زر کی خدا جانے کہاں لے جائے گی ہم کو
    خوشی مل جل کے رہنے کی نہ ملنے پائ گی ہم کو

    میرے بھی دل میں آتا ہے میری بھی عزت کریں بچے
    تھکا ہارا جو گھر لوٹوں میری خدمت کریں بچے

    میں ہوتا ہوں جو گھر پہ تو بہت ٹسوے بہاتے ہیں
    میرے جاتے ہی وہ کمبخت گل چھڑے اڑاتے ہیں

    جسے بزنس کرانا تھا "جواری" بنتا جاتا ہے!
    بنانا تھا جسے "پائلٹ"شکاری بنتا جاتا ہے

    میرے اپنے ہی بچے مجھ سے یوں انجان رہتے ہیں
    بجائے مجھ کو وہ ابو کے وہ ماموں جان کہتے ہین

    خدا کے واسطےپیاری یہاں سے جان چھڑوا دو
    میری اولاد کو اللہ میری پہچان کرادو

    تم اپنے آپ کو دیکھو جوانی ڈھلتی جاتی ہے
    تمہاری کالی زلفوں میں سفیدی بڑھتی جاتی ہے

    فراق و ہجر کے صدمےکو پتھر بن کے سہتی ہو
    سہاگن ہو کے بھی تم حیف بیوہ بن کے رہتی ہو

    ہُواچلنا بھی اب دشوار ڈھانچہ بن گیا ہوں میں
    کبھی سونا تھا پانسر آج تانبہ بن گیا ہوں میں

    یہی حالت رہی تو ایک دن ایسا بھی آئے گا
    بجائے میرے سعودیہ سے میرا لاشہ ہی آئے گا

    خدارا مجھ کو میرے گھر سے اب تم دور مت کرنا
    مزید اب اور ایگریمنٹ پر مجبور مت کرنا

    لٹانا چھوڑ کر دولت کفایت بھی ذرا سیکھو
    بہت کچھ بن گیا گھر کا قناعت بھی ذرا سیکھو

    دعا کرنا رِہا جلدی تمہارا خصم ہو جائے
    سزا اب ملک بدری کی میری اب ختم ہو جائے !
    avatar
    kamrankhan143
    Super Moderator

    Posts : 271
    Join date : 2010-03-17
    Age : 32
    Location : Abu Dhabi

    Re: مزاحیہ شاعری

    Post by kamrankhan143 on Sun Apr 04, 2010 8:29 am

    چالان

    آپ بے جرم یقیناّ ہیں مگر فدوی
    آج اس کام پہ مامور بھی ، مجبور بھی ہے
    عید کا روز ہے کچھ آپ کو بھی دینا ہوگا
    "رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے"

    اشتہاری مجرم

    نصیبوں میں یہ دور بھی دیکھنا تھا
    خدا جانے دنیا کو کیا ہو گیا ہے
    کہ ماں کی محبت بھی خاص نہیں اب
    " جہاں مامتا ہے وہاں ڈالڈا ہے "

    نیوز بلیٹن

    کس توجہ سے سن رہے ہیں ہم
    شرم ہم کو مگر نہیں آتی
    " ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
    کچھ ہماری خبر نہیں آتی "

    بنامِ یاراں

    مرے گھر کے سامنے ہے جو سڑک کہاں بنے گی
    کوئی کب سیاہ مرہم سے بھرے گا اس کے گھاؤ
    مرے دوستو یہ مصرع تمہیں لکھ رہا ہوں جل کر
    " انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ "


    خیر سے

    آپ نے صورتِ احوال اگر پوچھی ہے
    بڑی موج میں ہیں آپ کو بتلاتے ہیں
    ایسی برکت ہے کبھی گھر خالی نہیں رہتا
    کچھ نہ ہو گھر میں تو مہمان چلے آتے ہیں



    عید اور رمضانی

    ٹوٹتی ، چیختی ، چٹختی ہیں
    ہڈّیاں ، پسلیاں بیچاروں کی
    روزہ خوروں سے عید ملتے ہیں
    شامت آئی ہے روزہ داروں کی

    انگلش میڈیم کا ایک بچہ

    میری سنو جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
    مجھ سے وطن کی طرزِ بیاں چھین لی گئی
    " دیکھو مجھے جو دیدہِ عبرت نگاہ ہو "
    میں وہ ہوں جس سے اس کی زبان چھین لی گئی

    اندھیر نگری

    کچھ نہ پوچھو اداس ہے کتنا
    کتنا سہما ہوا سا رہتا ہے
    دل پہ سایہ ہے لوڈشیڈنگ کا
    "شام ہی سے کچھ بجھا سا رہتا ہے"

    مسابقہ

    ہم تمھارے کارنامے سے بہت مرعوب ہیں
    تم نے گلدستہ کیا ارسال مالی کی طرف
    ہم بھی اس میدان میں اتنے گئے گزرے نہیں
    برف بھیجی ہم نے بھی قطبِ شمالی کی طرف

    رابطہ

    کتاب سے ہے عزیزوں کا رابطہ قائم
    وہ اس سے اب بھی بہت فائدہ اٹھاتے ہیں
    کبھی کلاس میں آتے تھے ساتھ لےکے اسے
    اب امتحان کے کمرے میں لے کے جاتے ہیں


    میرا کیا؟

    آپ رہئیے شوق سے میکے جاکر چند روز
    اور ان بچوں کو چھوڑ آتا ہوں میں ننہال میں
    میرے بارے میں نہ ہونا جانِ من تشویش مند
    میں چلا جاؤں گا کچھ دن کے لئے سسرال میں

    پندِ سود مند

    لازم ہے احترام بزرگوں کے حکم کا
    دل سے خیال حکمِ عدولی نکال دے
    انور نہ ڈال کل پہ کبھی کام آج کا
    میرے عزیز تو اسے پرسوں پر ڈال دے

    کچھ کہاں سب

    اک غبارستان برپا کر گئی ہیں موٹریں
    گرد کی موجیں اٹھیں اور طوفاں ہوگئیں
    راہرو جتنے تھے سب آنکھوں سے اوجھل ہو گئے
    "خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں"

    مہمان

    عین راحت ہیں ہمیں سب اس کی خاطر داریاں
    دال روٹی اس کے حصّے کی جو ہے کھاتا رہے
    سانس کی مانند ہے انور ہمیں مہماں عزیز
    عرض اتنی ہے کہ بس آتا رہے ، جاتا رہے


    خود آگاہی

    لوگ نہیں سخن شناس ورنہ حقیقتاً مرا
    مغزِ کلام اور ہے طرزِ کلام اور ہے
    صاحبِ صدر پڑھ چکیں تو میں سناؤں گا غزل
    اوروں کا ہے مقام اور میرا مقام اور ہے
    avatar
    kamrankhan143
    Super Moderator

    Posts : 271
    Join date : 2010-03-17
    Age : 32
    Location : Abu Dhabi

    Re: مزاحیہ شاعری

    Post by kamrankhan143 on Sun Apr 04, 2010 8:30 am

    اب غم انگیز ہو گئی کھانسی
    پہلے سے تیز ہو گئی کھانسی


    ڈاکٹر کی دوائیں کھا کھا کر
    اور بھی تیز ہو گئی کھانسی


    اسپ کی طرح دوڑتا ہوں میں
    یعنی مہمیز ہو گئی کھانسی


    رات دن سینہ کوبی کرتا ہوں
    شاہ گردیز ہو گئی کھانسی


    اس کی تعظیم اٹھ کر کرتا ہوں
    بنت پرویز ہو گئی کھانسی


    صابردہلوی
    avatar
    kamrankhan143
    Super Moderator

    Posts : 271
    Join date : 2010-03-17
    Age : 32
    Location : Abu Dhabi

    Re: مزاحیہ شاعری

    Post by kamrankhan143 on Sun Apr 04, 2010 8:30 am

    نہ کھاتا اگر میں تو تکرار کیا تھی
    مگر کچھ پکاتے ہوئے عار کیا تھی

    کیا ہم کو برباد میک اپ نے تیرے
    خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی

    میاں بیوی میں تھی اگر کوئی ان بن
    تو گھر میں بچوں کی بھر مار کیا تھی

    ستاروں سے آگے چھلانگیں تھیں ہماری
    پڑوسن کی چھوٹی سی دیوار کیا تھی

    چڑھی ناک میں جب تو فخری نہ پوچھو
    وہ چھینکوں کا طوفان تھا نسوار کیا تھی
    avatar
    kamrankhan143
    Super Moderator

    Posts : 271
    Join date : 2010-03-17
    Age : 32
    Location : Abu Dhabi

    Re: مزاحیہ شاعری

    Post by kamrankhan143 on Sun Apr 04, 2010 8:30 am

    ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ
    قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ
    بلی تو یونہی مفت میں بدنام ہوئی ہے
    تھیلے میں تو خحچھ اور تھا سامان وغیرہ
    بے حرص و غرض فرض ادا کیجئے اپنا
    جس طرح پولیس کرتی ہے چالان وغیرہ
    اب ہوش نہیں کوئی کہ بادام کہاں ہے
    اب اپنی ہتھیلی پہ ہیں دندان وغیرہ
    کس ناز سے وہ نظم کو کہہ دیتے ہیں نثری
    جب اس کے خطا ہوتے ہیں اوسان وغیرہ
    جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
    گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ
    ہر شرٹ کی بشرٹ بنا ڈالی ہے انور
    یوں چاک کیا ہم نے گریبان وغیرہ

    Sponsored content

    Re: مزاحیہ شاعری

    Post by Sponsored content


      Current date/time is Tue Jun 19, 2018 12:04 am